حضرت ابو بکر صدیقؓ کا گھر

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا گھر مسجدِ نبوی ﷺ کے مغربی جانب، بابُ السلام (سلامتی کے دروازے) کے قریب واقع تھا۔ اس گھر میں ایک چھوٹا سا دروازہ تھا جو “خوخۃُ أبی بکر” کے نام سے معروف تھا، جس کے ذریعے وہ مسجدِ نبوی ﷺ میں داخل ہوتے تھے۔

نبی کریم ﷺ نے حکم فرمایا کہ تمام دروازے بند کر دیے جائیں، سوائے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دروازے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کے۔ اس روایت نے بعض لوگوں کے ذہن میں اشکال پیدا کیا اور اس مسئلے پر اختلاف و بحث بھی ہوئی۔

اشکال اور اس کا جواب

مسجدِ نبوی ﷺ کی طرف کھلنے والے دروازوں کو بند کرنے کا حکم متعدد اسانید سے مروی ہے، یہاں تک کہ یہ روایت تواتر کے درجے کو پہنچتی ہے۔

امام بخاری اور امام نسائی نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ:

نبی کریم ﷺ اپنی وفات سے پہلے والی بیماری کے دوران اپنے گھر سے باہر تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے اپنے سر پر ایک کپڑا باندھا ہوا تھا۔ آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا:

“لوگوں میں سے کسی نے بھی اپنی جان اور اپنے مال کے ذریعے مجھ پر اتنے احسان نہیں کیے جتنے ابو بکر نے کیے ہیں۔ اگر میں کسی کو اپنا خلیل (انتہائی قریبی دوست) بناتا تو یقیناً ابو بکر کو بناتا، لیکن اسلام کی اخوت اس سے بڑھ کر ہے۔ اس مسجد کی طرف کھلنے والے تمام چھوٹے دروازے بند کر دو، سوائے ابو بکر کے دروازے کے۔”

امام احمد، امام نسائی اور امام حاکم نے اپنی کتاب المستدرک میں (اور امام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے) حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ:

رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گھروں کے دروازے براہِ راست مسجد کی طرف کھلتے تھے۔ ایک دن نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“ان تمام دروازوں کو بند کر دو، سوائے علی کے دروازے کے۔”

اس پر بعض لوگوں نے گفتگو شروع کر دی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا:

“میں نے ان دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے، سوائے علی کے دروازے کے۔ تم میں سے بعض لوگوں نے اس بارے میں گفتگو کی ہے۔ اللہ کی قسم! نہ میں نے اپنی طرف سے کوئی دروازہ بند کیا ہے اور نہ کھولا ہے، بلکہ مجھے جس چیز کا حکم دیا گیا، میں نے اسی کی پیروی کی ہے۔”

علمائے کرام فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دروازے کو مستثنیٰ قرار دینے والی احادیث اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کو مستثنیٰ قرار دینے والی احادیث میں کوئی تعارض نہیں، کیونکہ حقیقت میں یہ دو الگ الگ واقعات ہیں۔

  • حضرت علی رضی اللہ عنہ کا واقعہ پہلے پیش آیا۔ اس کا تعلق ان بڑے دروازوں سے تھا جو گھروں سے براہِ راست مسجد کی طرف کھلتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ایک خاص اجازت حاصل تھی کہ وہ حالتِ جنابت میں بھی مسجد سے گزر سکتے تھے۔
  • جبکہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا واقعہ بعد کا ہے۔ یہ نبی کریم ﷺ کی اس بیماری کے دوران پیش آیا جس کے بعد آپ ﷺ کا وصال ہوا۔ اس میں ان چھوٹی گزرگاہوں (خوخات) کو بند کرنے کا حکم تھا جو مسجد تک جلدی پہنچنے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں، سوائے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خوخہ کے۔

احادیث کے درمیان یہ تطبیق قاضی اسماعیل المالکی نے اپنی کتاب الأحکام میں، امام کلاباذی نے المعانی میں، اور امام طحاوی نے مشکل الآثار میں بیان کی ہے۔

امام کلاباذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے واقعات میں کوئی تضاد نہیں، کیونکہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا دروازہ دراصل ان چھوٹی گزرگاہوں (خوخات) میں سے تھا جو مسجد کی طرف کھلتی تھیں۔ یہ گزرگاہیں گھروں کے اصل اور بڑے دروازوں سے مختلف تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے ان تمام خوخات کو بند کرنے کا حکم دیا، سوائے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خوخہ کے۔ جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دروازہ مسجد کے اندرونی حصے سے متعلق تھا، جسے آمد و رفت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

آخر میں، جو شخص اس مسئلے کی مزید تفصیل جاننا چاہے، وہ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کی کتاب «شدّ الأثواب في سدّ الأبواب» کا مطالعہ کرے، جس میں انہوں نے اس حدیث کی متعدد روایات جمع کی ہیں، اس مسئلے کی وضاحت کی ہے اور اس سے متعلق تمام اشکالات اور اعتراضات کے جوابات بھی دیے ہیں

یہ مقام شیئر کریں

قریبی مقامات

تمام مقامات دیکھیں

نئے مقامات کے بارے میں سب سے پہلے جانیں