[بئر العِہن] اس کے نام میں حرف عین (غیر منقوط) کے نیچے کسرہ، حرف ہاء پر سکون اور آخر میں نون ہے۔ یہ پانچواں نبوی کنواں ہے۔ یہ ان کنوؤں میں سے ایک ہے جنہیں ’’نبوی کنوؤں‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کنویں میں اپنا لعابِ مبارک ڈالا، اس کے پانی میں برکت کی دعا فرمائی اور اس سے وضو بھی کیا۔ اس کنویں کو الیسیرہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ ’’یُسر‘‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی آسانی اور سہولت کے ہیں، جو ’’عُسر‘‘ (مشکل اور دشواری) کی ضد ہے۔ مشہور مؤرخ سمہودی رحمہ اللہ اس کنویں کے بارے میں کہتے ہیں: ’’غور و فکر کے بعد میرے نزدیک یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ بئر العِہن وہی کنواں ہے جسے الیسیرہ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ کنواں ہے جس کے پاس نبی کریم ﷺ تشریف لے گئے، اس سے وضو فرمایا اور اس میں اپنا لعابِ مبارک ڈالا۔ اس کنویں کا ابتدائی نام عُسرہ تھا، پھر نبی کریم ﷺ نے اس کا نام تبدیل کرکے الیسیرہ (آسانی والا) رکھ دیا۔‘‘ (مفہومًا) سمہودی رحمہ اللہ حضرت سعید بن عمرو سے یہ روایت بھی نقل کرتے ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ بنو امیہ بن زید کے ہاں تشریف لائے اور ان کے ایک کنویں کے پاس ٹھہرے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: اس کنویں کا کیا نام ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: عَسِرہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس کا نام الیسیرہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس میں اپنا لعابِ مبارک ڈالا اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔‘‘ ابن شبہ رحمہ اللہ محمد بن حارثہ انصاری سے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے انصار کے قبیلے بنو امیہ کے کنویں کا نام الیسیرہ رکھا، اس میں برکت کی دعا فرمائی، اس سے وضو کیا اور اس میں اپنا لعابِ مبارک ڈالا۔ (دیکھیے: تاریخ المدینہ، 1/161) صحابی رسول حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد انہیں اسی کنویں کے پانی سے غسل دیا گیا تھا۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے رضاعی بھائی اور آپ کے چچا زاد بھائی تھے۔ وہ آپ ﷺ کی پھوپھی حضرت برّہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے تھے۔ نیز وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر تھے، جن سے بعد میں رسول اللہ ﷺ نے نکاح فرمایا۔ ابن سعد رحمہ اللہ اپنی کتاب الطبقات میں لکھتے ہیں: حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ غزوۂ بدر اور غزوۂ احد میں شریک ہوئے۔ غزوۂ احد میں ابو اسامہ جشمی نے انہیں ایک چوڑی نوک والا تیر (مِعْبَلَہ) مارا، جو ان کے بازو کے اوپری حصے میں لگا۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ تقریباً ایک ماہ تک اس زخم کا علاج کرواتے رہے۔ بظاہر وہ صحت یاب ہوتے دکھائی دینے لگے تھے، لیکن زخم کے اندر ایک پوشیدہ بیماری باقی تھی جس کا انہیں گمان بھی نہ تھا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے انہیں ماہِ محرم میں، ہجرت کے پینتیسویں مہینے کے بعد، بنو اسد کے خلاف ایک لشکر کا امیر بنا کر قَطَن کی جانب روانہ فرمایا۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ وہاں دس سے زائد راتیں گزارنے کے بعد مدینہ واپس آئے۔ جب وہ واپس پہنچے تو ان کا زخم دوبارہ کھل گیا۔ وہ بیمار پڑ گئے اور بالآخر تین جمادی الآخر کو وفات پا گئے۔ انہیں الیسیرہ کے پانی سے غسل دیا گیا۔ یہ بنو امیہ بن زید کا کنواں تھا جو علاقۂ عالیہ میں واقع تھا۔ جب حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ اس علاقے سے گزرتے تو قبا میں اسی مقام پر قیام کیا کرتے تھے۔ ان کے جسدِ مبارک کو کنویں کے دونوں جانب بنے ہوئے ستونوں کے درمیان غسل دیا گیا۔ زمانۂ جاہلیت میں اس کنویں کا نام العُسرہ تھا، لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام تبدیل کرکے الیسیرہ رکھ دیا تھا۔ اس کے بعد حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے جسدِ مبارک کو بنو امیہ بن زید کے محلے سے اٹھا کر مدینہ منورہ کے وسط میں دفن کرنے کے لیے لے جایا گیا۔ حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ’’اس موقع پر میری والدہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی عدت پوری کی، جو چار ماہ اور دس دن تھی۔‘‘ حوالہ: ابن سعد، الطبقات، 3/240


