یہ مسجد کے اگلے حصے میں قبلہ کی دیوار میں واقع ہے۔ اسے مختلف رنگوں کے سنگِ مرمر کے ٹکڑوں سے مزین کیا گیا ہے، جن پر نہایت خوبصورت اور تخلیقی انداز میں قرآنی آیات خطاطی کی صورت میں تحریر ہیں۔
مسجدِ نبوی ﷺ کی توسیع کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اسے حضرت عثمان بن عفانؓ کے مصلائے نماز کی جگہ پر قائم کیا۔ بعد ازاں سلطان قایت بای نے 888 ہجری میں اس کی تجدید و مرمت کروائی، اور امام کی امامت کی جگہ آج تک وہیں موجود ہے۔
عثمانی محراب کے تاج کے اوپری دائیں جانب سنگِ مرمر کی ایک مربع تختی نظر آتی ہے، جو سلطان عبد الحمید اول نے 1198 ہجری میں مسجدِ نبوی ﷺ کے لیے پیش کی تھی۔ اس تختی پر خوبصورت کوفی خط میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا ایک حصہ تحریر ہے:
﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ﴾
ترجمہ: ’’بے شک تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول تشریف لائے، تمہاری تکلیف ان پر گراں گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کے خواہش مند ہیں اور مؤمنوں پر نہایت شفیق و مہربان ہیں۔‘‘
محراب کے دوسری جانب بھی سنگِ مرمر کی ایک مربع تختی موجود ہے، جو سلطان عبد الحمید اول نے 1198 ہجری میں مسجدِ نبوی ﷺ کے لیے پیش کی تھی۔ یہ تختی عثمانی محراب کے تاج کے دوسری جانب اوپر واقع ہے اور اس پر خوبصورت کوفی خط میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تحریر ہے:
﴿مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا﴾
ترجمہ: ’’محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے خاتم ہیں، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔‘



