امام بخاری رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ صحابی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’نبی کریم ﷺ کے پاس ایک برتن لایا گیا، اس وقت آپ ﷺ مقام الزَّوْرَاء میں تشریف فرما تھے۔ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ برتن میں رکھا تو آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹنے لگا۔ لوگوں نے اس پانی سے وضو کیا۔‘‘
قتادہ کہتے ہیں: ’’میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم لوگ کتنے تھے؟‘‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ’’ہم تقریباً تین سو تھے، یا تین سو کے قریب۔‘‘
ابو نعیم نے شریک بن ابی نمیر کی روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ برتنِ آب خود حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی لائے تھے، اور وہ اسے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے لے کر آئے تھے۔ جب انہوں نے وہ برتن حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو واپس کیا تو اس میں اتنا ہی پانی موجود تھا جتنا ابتدا میں تھا۔
نبی کریم ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کئی مرتبہ جاری ہوا، اور یہ معجزہ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے کہ پانی ایک چٹان سے پھوٹ نکلے، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا تھا۔ اس لیے کہ چٹان سے پانی کا پھوٹ نکلنا لوگوں کے لیے کسی نہ کسی حد تک ایک معمول کی بات ہے، برخلاف اس کے کہ گوشت اور خون کے درمیان سے پانی جاری ہو؛ یہ ایسا معجزہ ہے جو خصوصاً نبی کریم ﷺ کے ساتھ مخصوص تھا۔
جہاں تک الزَّوْرَاء کا تعلق ہے، تو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب فتح الباری میں بیان کیا ہے کہ یہ مدینہ منورہ میں بازار کے قریب واقع ایک معروف مقام ہے




