رسول اللہ ﷺ کا بازار

رسول اللہ ﷺ کا بازار

رسول اللہ ﷺ کی مدینہ منورہ آمد کے وقت معاشی سرگرمیوں پر کس کا کنٹرول تھا؟

رسول اللہ ﷺ کی مدینہ منورہ آمد کے وقت معاشی سرگرمیاں تین یہودی قبائل کے زیرِ کنٹرول تھیں: بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ۔ ہر قبیلے کا اپنا بازار تھا جو اس کے اپنے قوانین اور ضوابط کے مطابق چلتا تھا۔ مثال کے طور پر، ہر تاجر پر ایک ٹیکس (خراج) عائد کیا جاتا تھا، چاہے اس نے کوئی خرید و فروخت کی ہو یا نہ کی ہو۔ صرف بازار میں داخل ہونے کے لیے بھی اس ٹیکس کی ادائیگی ضروری تھی۔

رسول اللہ ﷺ نے کیا اقدام فرمایا؟

آپ ﷺ نے پہلے سے موجود بازاروں کے مقابلے میں ایک متبادل بازار قائم کیا۔ ابتدا میں آپ ﷺ نے بنو نجار (خصوصاً بنو زریق) کی ملکیت ایک وسیع زمین پر، جو “بقیع الزبیر” کے نام سے معروف تھی، ایک بڑا خیمہ نصب کیا، پھر صحابۂ کرامؓ کو وہاں تجارت کرنے کی ترغیب دی۔

بنو نضیر کے ایک شخص کعب بن الاشرف نے جب اس اقدام کی اہمیت اور اثرات کو محسوس کیا تو اس نے خیمے کی رسیاں کاٹ دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے نہیں روکا، بلکہ فرمایا کہ آپ ﷺ ایسی جگہ منتخب کریں گے جو اس شخص کو اس سے بھی زیادہ ناراض کرے گی۔

اس کے بعد آپ ﷺ نے ایک ایسی زمین کا انتخاب فرمایا جو مسجد الغمامہ سے لے کر سقیفۂ بنو ساعدہ تک پھیلی ہوئی تھی، اور اہلِ مدینہ سے اعلان فرمایا کہ اب یہ ان کا بازار ہے اور اس بازار میں کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔

آپ ﷺ نے دوسرا اصول یہ مقرر فرمایا کہ جو شخص ہر روز سب سے پہلے آئے گا، وہ اپنی جگہ قائم کر سکتا ہے، جبکہ کسی کے لیے مستقل طور پر کوئی جگہ مخصوص یا محفوظ کرنا جائز نہیں ہوگا۔

یہ بازار آج تک “سوق المناخ” کے نام سے معروف ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کا وقف تھا، جسے اچھی طرح محفوظ رکھا گیا ہے اور اس پر تعمیرات کرنا ممنوع ہے۔

اس بازار کا قیام اس بات کی واضح دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معیشت اور تجارتی سرگرمیوں کو کتنی اہمیت دی۔

الزبیر بن المنذر، ابو اُسیدؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سوق النبیط کا معائنہ فرمایا، پھر ایک اور بازار دیکھا، اور ہر مرتبہ فرمایا:

“یہ تمہارے لیے مناسب بازار نہیں ہے۔”

پھر آپ ﷺ اسی مقام پر واپس آئے، اس کا جائزہ لیا اور اعلان فرمایا:

“یہ تمہارا بازار ہے۔ اس بازار میں تاجروں پر کوئی ٹیکس عائد نہ کرو۔”

(سنن ابن ماجہ)

سوق النبیط اس مقام کا قدیم نام تھا۔ غالب امکان ہے کہ بقیع الزبیر دراصل سوق النبیط ہی تھا یا اس کا ایک حصہ تھا۔ یہ مقام تقریباً مسجد نبوی ﷺ کے جنوب مشرق میں اور بقیع الغرقد کے مغرب میں واقع تھا۔

سوق النبیط کی تاریخ

ممکن ہے کہ سوق النبیط اسلام سے پہلے کے دور میں مدینہ کے قدیم ترین بازاروں میں سے ایک ہو۔ اس کا نام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس کا تعلق نبطیوں سے تھا، جو دوسری صدی عیسوی تک وادی القریٰ (العُلا کے علاقے) میں آباد تھے۔ ممکن ہے کہ آئندہ تحقیقات نبطیوں اور یثرب (مدینہ کا قدیم نام) کے درمیان تجارتی تعلقات کو واضح کریں، خصوصاً اس لیے کہ دونوں ایک ہی قدیم تجارتی شاہراہ پر واقع تھے۔

اس بازار کی تاریخی اہمیت کا ایک ثبوت وہ واقعہ ہے جو رسول اللہ ﷺ کے پردادا ہاشم بن عبد مناف کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے۔ جب وہ مدینہ آئے اور سلمیٰ بنت عمرو (بنو نجار قبیلے سے) سے شادی کی، تو انہی کے بطن سے عبدالمطلب بن ہاشم پیدا ہوئے، جو رسول اللہ ﷺ کے دادا تھے۔

ہاشم قریش کے ایک تجارتی قافلے کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ راستے میں وہ مدینہ پہنچے اور سوق النبیط میں قیام کیا، جہاں سالانہ بازار لگتا تھا۔ انہوں نے وہاں تجارت کی۔ اسی دوران ہاشم نے ایک معزز خاتون کو دیکھا جو اپنے تجارتی معاملات کی نگرانی کر رہی تھیں۔ وہ پُراعتماد، باوقار اور حسین تھیں۔

ہاشم نے دریافت کیا کہ آیا وہ شادی شدہ ہیں یا نہیں۔ انہیں بتایا گیا کہ ان کی پہلے اُحیحہ بن الجلاح سے شادی ہوئی تھی، جن سے دو بچے ہوئے، پھر علیحدگی ہو گئی۔ وہ اپنی قوم میں اس قدر بلند مرتبہ تھیں کہ صرف اسی شخص سے نکاح قبول کرتی تھیں جسے ازدواجی معاملات میں اختیار دینے پر راضی ہوتیں، اور اگر کسی مرد کو ناپسند کرتیں تو اس سے علیحدگی اختیار کر لیتیں۔

ہاشم نے ان سے نکاح کی درخواست کی۔ انہوں نے ہاشم کے شرف، نسب اور مقام کو پہچانا اور شادی قبول کر لی۔

اس شادی کی خوشی میں ہاشم نے ایک ضیافت کا اہتمام کیا اور اپنے ساتھ قریش کے قافلے میں موجود تاجروں کو مدعو کیا، جن میں بنو عبد مناف، مخزوم اور سہم کے چالیس افراد شامل تھے۔ انہوں نے خزرج کے بعض افراد کو بھی دعوت دی۔ ہاشم اپنے ساتھیوں کے ساتھ کئی دن مدینہ میں مقیم رہے۔

بعد ازاں سلمیٰ حاملہ ہوئیں اور عبدالمطلب پیدا ہوئے۔ ان کے سر پر پیدائش کے وقت سفید بالوں کا ایک گچھا تھا، اسی لیے ان کا نام شیبہ رکھا گیا۔

یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سوق النبیط بنو نجار کے علاقے میں واقع تھا، جہاں آج مسجد نبوی ﷺ اور اس کے اطراف کا علاقہ موجود ہے۔ یہ روایت اس زمانے میں خواتین کی تجارتی سرگرمیوں اور معاشرتی ترقی میں ان کے کردار کی بھی واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

یہ بازار اسلام کے ابتدائی دور تک قائم رہا، یہاں تک کہ مسجد نبوی ﷺ کے مغرب میں رسول اللہ ﷺ کے قائم کردہ نئے بازار نے اس کی جگہ لے لی اور وہ شہر کا مرکزی تجارتی مرکز بن گیا۔

جہاں تک سوق النبیط کی زمین کا تعلق ہے، رسول اللہ ﷺ نے اسے زبیر بن عوامؓ کو عطا فرما دیا۔

یہ بازار غزوۂ ذات الرقاع کے واقعات میں بھی مذکور ہے۔ روایت ہے کہ ایک تاجر اپنا سامان لے کر سوق النبیط آیا۔ اس سے پوچھا گیا:

“تم یہ سامان کہاں سے لائے ہو؟”

اس نے جواب دیا:

“میں نجد سے آیا ہوں۔ میں نے انمار اور ثعلبہ قبائل کے لوگوں کو تمہارے خلاف جنگ کی تیاری کرتے دیکھا ہے جبکہ تم اس سے بے خبر ہو۔”

جب رسول اللہ ﷺ نے یہ خبر سنی تو آپ ﷺ تقریباً چار سو صحابہؓ (اور بعض روایات کے مطابق سات سو یا آٹھ سو صحابہؓ) کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔

ایک اور روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت عمر بن خطابؓ کے ساتھ سوق النبیط سے گزر رہے تھے، جہاں ایک عورت نے اپنے شوہر کے بارے میں شکایت پیش کی۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابن زبالہ کی ایک روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے بقیع الزبیر کے مقام پر نماز ادا فرمائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب سوق النبیط کا نام تبدیل ہو چکا تھا اور یہ زمین زبیرؓ کی ملکیت بن چکی تھی، جہاں انہوں نے اپنے اہلِ خانہ کے لیے مکانات تعمیر کیے تھے۔ بعد میں اسی مقام پر ایک مسجد تعمیر کی گئی جو مسجد بقیع الزبیر کے نام سے معروف ہوئی۔

سوق النبیط میں تجارتی سرگرمیاں

مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بازار میں تجارتی سرگرمیاں نہایت متنوع تھیں۔ یہاں مویشی، کپڑے اور دیگر اشیاء فروخت ہوتی تھیں۔

اسی بازار سے رسول اللہ ﷺ نے اپنی مشہور اونٹنیاں الشقراء اور الدباء خریدی تھیں، اور ایک لباس بھی حاصل کیا تھا جسے آپ ﷺ پہنتے تھے۔

عبدالسلام بن جبیر کے والد روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سات اونٹنیاں تھیں جو کبھی ذی الجدر اور کبھی الجماء کے علاقے میں چرایا کرتی تھیں، اور لوگ ان کا دودھ استعمال کرتے تھے۔ مہرہ نامی اونٹنی حضرت سعد بن عبادہؓ نے بنو عقیل کے ریوڑ سے بھیجی تھی۔

جہاں تک الشقراء اور الدباء کا تعلق ہے، تو بنو عامر نے انہیں سوق النبیط میں رسول اللہ ﷺ کو فروخت کیا تھا۔

رہا وہ لباس جو رسول اللہ ﷺ پہنتے تھے، تو وہ اصل میں حکیم بن حزام کا تحفہ تھا جو صلح حدیبیہ کے دوران پیش کیا گیا تھا۔ لیکن چونکہ اس وقت وہ قریش میں شامل تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے وہ تحفہ قبول نہ فرمایا۔ حکیم بن حزام اس بات سے بہت رنجیدہ ہوئے اور انہوں نے وہ لباس سوق النبیط میں فروخت کے لیے پیش کر دیا۔

بعد میں رسول اللہ ﷺ نے زید بن حارثہؓ کو بھیجا تاکہ وہ لباس خرید لیں۔ حکیم بن حزام بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے بعد میں رسول اللہ ﷺ کو وہی لباس پہنے ہوئے دیکھا۔

یہ مقام شیئر کریں

قریبی مقامات

تمام مقامات دیکھیں

نئے مقامات کے بارے میں سب سے پہلے جانیں